بنگلور:6/جنوری(ایس او نیوز)ریاست میں سنگین خشک سالی چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریاست کے کل جماعتی وفدا ور متعدد وزراء کی بارہا نمائندگی کے باوجود مرکزی حکومت نے کرناٹک کو بہت ہی قلیل امداد جاری کی، اور امداد جاری کرنے کے بعد اس پر غیر ضروری سیاست کی جارہی ہے۔ یہ بات آج وزیر اعلیٰ سدرامیا نے کہی۔ شہر کے جالہلی کے قریب نئے فلائی اوور کا افتتاح کرنے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ریاست سے مرکز میں نمائندگی کرنے والے بی جے پی اراکین پارلیمان اور مرکزی وزراء کو ریاست میں خشک سالی کی صورتحال سے نمٹنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ پچھلے پچاس سالوں کی بدترین خشک سالی کے باوجود مرکزی حکومت کی طرف سے کرناٹک کو جو امداد فراہم کی گئی ہے اسے وزیر اعلیٰ نے ناکافی قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ این ڈی آر ایف ضوابط کے تحت کرناٹک کو کم از کم 4300 کروڑ روپیوں کی امداد جاری کرنی چاہئے تھی، لیکن اس کا تقاضہ کرنے کے باوجود مرکزی حکومت نے محض 1700 کروڑ روپے جاری کرکے اپنی ذمہ داری سے دامن جھاڑ لیا ہے۔ سدرامیا نے کہاکہ ریاست بھر میں خشک سالی کے سبب 17/ ہزار کروڑ روپیوں کا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک بار پھر اگر ضرورت پڑی تو وہ مرکزی حکومت سے امداد کا تقاضہ کرنے کیلئے کل جماعتی وفد لے کر وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ راجستھان جیسی چھوٹی ریاست کو خشک سالی سے نمنٹے کیلئے بڑی رقم جاری کی گئی ہے، لیکن کرناٹک کو نظر انداز کیاجارہا ہے۔ لوک آیوکتہ کے تقرر کے متعلق ایک سوال پر سدرامیا نے کہاکہ 9/ جنوری کو اس سلسلے میں ایک میٹنگ طلب کی گئی ہے جس میں لوک آیوکتہ کے تقرر کے بارے میں تبادلہئ خیال کیا جائے گا۔ ڈی وائی ایس پی ایم کے گنپتی کی خود کشی کے معاملہ میں سی بی آئی کی طر ف سے ریاستی وزیر کے جے جارج کو کلین چٹ دئے جانے کے باوجود گنپتی کے خاندان والوں کی طرف سے سپریم کورٹ سے رجوع کئے جانے کے متعلق ایک سوال پر سدرامیا نے کہاکہ سپریم کورٹ کی طرف سے ریاستی حکومت کو ایک نوٹس جاری کی گئی ہے،ا س کا جواب دینے کیلئے ماہرین قانون سے مشورہ کیاجارہاہے۔ جالہلی فلائی اوور کی تعمیر میں تاخیر کے متعلق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہئ ریلویز کے عدم تعاون کے سبب اس میں تاخیر ہوئی تھی، اب یہ تیار ہوچکا ہے اس علاقہ میں ٹریفک کا مسئلہ کا فی حد تک سلجھ جائے گا۔یشونت پور، کنگیری، راجہ جی نگر، یلہنکا اور ہبال علاقوں کو جانے والے لوگوں کو یہاں سے گزرنے میں آسانی ہوگی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے ہمراہ وزیر صنعت آر وی دیش پانڈے، وزیر برائے ترقیات بنگلور کے جے جارج، رکن پارلیمان ڈی کے سریش، رکن اسمبلی منی رتنااور دیگر افسران وغیرہ موجود تھے۔